خبریں 

 

 

بسم الله الرحمن الرحيم

ذَلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ  (الحج-32)

(والحج المبرور ليس له جزاء إلا الجنة)  متفق عليه

 

عيدالاضحى كى مناسبت سےعاليقدر امير المؤمنين كا

پيغام

الحمد لله الكبير المتعال الذي نصر عبده وأعز جنده وهزم الأحزاب وحده، والصلاة والسلام على قائد المجاهدين أشرف الأنبياء والمرسلين، وعلى آله وصحبه الغر الميامين، وعلى سائر المجاهدين في سبيل الله ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين. وبعد

مسلم امہ،افغان غمزدہ لیکن بہادروشجاع مسلمان قوم اوربالخصوص تمام مجاہدین کوتہہ دل سےعیدالاضحی اوراس عظیم مذہبی یوم کی مناسبت سےمبارکبادکہتاہوں- اللہ تعالی اس بابرکت روزکوتمام مسلم امت اورخاص کرشہداءاورقیدیوں کےاہل خانہ پرصبراورخوشی سےگزاردیں- اللہ تعالی ہمارےثروت مندبہن بھائیوں کوتوفیق عطا فرمائيں،کہ ان ایام میں تمام لاچاروں بالخصوص بہادرشہداء،مظلوم قیدیوں اورمقدس مجاہدین کی خاندانوں، بیواؤں اوریتیموں کواس خوشی میں شریک کردیں،ان کےسرپناہ،لباس اورخوراک کابندوبست کریں اوراسلامی بھائی چارےکومدنظررکھ کرمشفقانہ رویہ ان کےساتھ اپنالیں-اللہ تعالی ہمارےحجاج کی جحوں کوقبول فرماکر مظلوموں کی حق میں ان کی دعاؤں کومستجاب فرمادیں-

جیسا کہ عیدالاضحی کادن مسلم امت کےلیےاللہ تعالی کی راہ میں قربانی کاایک یادگارہے،یہ دن ہرمسلمان کو اپنے رب کے رضاکی راہ میں قربانی کاسبق دیتی ہے،اگرکوئی حقیقی مؤمن اللہ تعالی کی راہ میں سرومال کی قربانی کےلیےآمادہ ہوتودنیاوآخرت  کی سرفرازی ، عزت اورآزادی کو حاصل کرسکتاہے،اسلام کی آزادی کاروح مؤمنوں کی قربانیوں میں پوشیدہ ہے،اسلام کاکوئی دشمن قربانی دینےوالے مؤمنوں کےمقابل نہیں ٹہرسکتا- آج  ہم نے خالی ہاتھ اورکمزوروسائل کےذریعے سب سےاعلی طاقتوردشمن کوبھگانےپرمجبورکیاہے،یہ صرف قربانی کانتیجہ ہے-

ہمارےمظلوم اورناتوان قوم پرناجائزحملہ آوروں کوایک بارپھرواضح طورپرکہتاہوں : کہ

 تمھارےلیے یہ ایک بہترین موقع ہے،کہ اب سے اپنی فوجوں کونکالنےکےلیےایک معقول اورقاطع پالیسی پرغورکرو،ہمارےمظلوم قوم کی مزیدہلاکتوں کو خیربادکہہ دو،اگرتم ہمارےگھروں کومسمارکرکےہموطنوں کوموت کےگھاٹ اتاروگے، توتمھاری جارحیت بھی ہمارےمجاہدین کی غیض وغضب سےمحفوظ نہیں ہے،اب چونکہ تم اپنی شہریوں سے لاڈلوں کی ہلاکتوں کوچھپانے میں تھک چکےہو،تم آئندہ ایک ایسی مبہم اورنامعلوم لڑائی سےجس کےنتائج نامعلوم ہونگے،اپنی عوام کوتسلی نہیں دےسکوگے-

ایسےحالت میں،کہ تم خودبھی کھبی کھباراس حقیقت کااعتراف کرتےہو،کہ اب مزیدوہ وقت نہیں ہے،کہ افغانستان میں غیرملکی فوجوں کی ہلاکتیں اوربکتربندوسائل کی تباہی ایک مشکل کام ہو،اوریہ بھی مانتےہوکہ گذشتہ سات برس کےدوران ہماری طاقت اورجدیدٹیکنالوجی کی بےدریغ استعمال نےکوئی نتیجہ نہیں دیا- اس بات کو بھی ذہن نشین کروکہ موجودہ مزاحمت کی سلسلےمیں کوئی کٹھ پتلی رژیم بھی اپنےپاؤں پرکھڑانہیں ہوسکےگا،مزیدملکوں پرقبضہ اورنہ ہی تعمیرنوکےنام پر اپنےناجائزمقاصدتک پہنچ سکوگے-

تم مزیدفوجیں بھیجنےپر کامیابی کی جوامیدرکھتےہووہ بالکل متضاداوردھوکہ ہے،کیونکہ فوجوں کی کثرت جنگ کوطول دیکراس کےدائرےکووسیع کردیتی ہے،پھرروزانہ درجنوں جھڑپوں کےبجاۓ سینکڑوں جھڑپیں رونماہونگے اوراب چونکہ تمھاری ہرماہ کی نقصانات سینکڑوں میں ہے،اس کےبعدتمھاری لاڈلوں کی اموات ہزاروں میں ہوگی- جونہ تمھاری عوام کوقابل قبول ہوگی اورنہ ہی تمھاری غرورکےنتیجےمیں بےدفاع مسلمانوں،بچوں اورعورتوں کی ہلاکتوں کی وجہ سےامارت اسلامی کےتاریخی نفرت اورغضب سےپرامن ہوسکوگے-

دوسری جانب جارح طاقتیں طیاروں اوربموں کےزیرسایہ،جارحیت کودوام بخشنےکےلیے مزیدفوجیں جابجاکرنے کی حالت میں ان کےامن کےپرفریب دعوےبھی غیرمعقول ہیں- امن کے علمبردار!؟پہلےجارحیت کوختم کردیں،جنہوں نے افغان مجاہدقوم پرجنگ مسلط کی ہے،کسی بھی انسانی معاشرےمیں امن مذاکرات بندوق کی نوک پرنہیں کیے جاسکتےہیں اوراس فکرمیں نہ رہےکہ اسلامی مزاحمت کی قیادت تمھاری بےبنیادوعدوں،مادی امتیازات، ذاتی حفاظت اورقبضے کی حالت میں عہدوں اورمنصبوں کےلیےاپنی برحق مزاحمت سےدست بردارہوجائے-

قابضوں کایہ تصوربھی غلط ہےکہ قومی لشکرکےنام سےافغانوں کواپنی ذاتی مفادات کی غرض سے مجاہدین کےساتھ دست وگریبان کردیں،کیونکہ کوئی حقیقی مسلمان اورواقعی افغان اتناناسمجھ اوربےاحساس نہیں ہے کہ غیرملکی حملہ آوروں کی مفادات کےلیے اپنےمسلمان بھائی سےلڑکراس ناجائزراہ میں اجنبی جارح درندوں کی خوشی اوررضاکےلیےاپنےسراورایمان سےہاتھ دھوبھیٹے- افغان قوم ہمیشہ عقیدےکےلیےقربانی دیتی ہےاوراسی عقیدے کی بنیادپرلڑچکےہیں- عقیدوی لڑائی صرف اسلام اورسرزمین پرقابض حملہ آوروں کےساتھ لڑی جاتی ہے، جبکہ اس کےبرعکس حریت پسندمجاہدین سےنہیں لڑی جاسکتی ہے-

میں عالم جہاں کی تمام امن پسندملکوں سےپرزورمطالبہ کرتاہوں،کہ افغانستان سمیت تمام مقبوضہ ملکوں کی آزادی میں اپنی اثرورسوخ کوبروۓکارلاکر،وہ امن جواپنےلیے چاہتے ہو، محکوم اقوام کےلیےبھی جدوجہدکریں- عالمی معشیت جوآجکل متزلزل ہےاسکا بنیادی سبب امریکی جنگی پالیسی اورجارح سیاست ہے،جس کے منفی اثرات دنیاکےگوشےگوشےتک پھیل چکاہے،لہذااس پرقابوپاناسب کی ذمہ داری ہے-

میں اپنی غیوراورمسلمان قوم کوایک بارپھرآگاہ کرتاہوں کہ :

الف : اپنی تاریخی اعتبارکی لحاظ سےقابض دشمن کےمقابلےمیں مجاہدین کےساتھ مزیدتعاون کوجاری رکھیے-

ب : مجاہدین کی حمایت تمھاری مذہبی فریضہ اورذمہ داری ہے- اجنبی قابضوں اوران کےکٹھ پتلی ایجنٹوں کی بےبنیادپروپینگنڈوں کی فریب میں نہ پڑو-

ج : نام نہادانتخابات کی ڈرامےمیں تگ ودومت کرو،کیونکہ حقیقی راۓشماری واشنگٹن میں ہوتی ہے اوریہ نام نہادحکمران تمھاری انتخاب سےنہیں بلکہ واشنگٹن کی مرضی سے منتخب کیےجاتےہیں- اگرہزاردفعہ تمھارے گھر امریکی بموں سےتباہ ہوجائيں،پھربھی ان حکمرانوں سےکوئی امیدوابسطہ نہ رکھو؟یہ حکمران صرف گفتگو اور نطق تک محدودہے،عمل اورارادے کاصلاحیت صرف واشنگٹن کےپاس ہے،اس لیےان سےتمھاری امیدبےفائدہ ہے-

د : دیکھیے!کھبی بھی شاہ شجاع،ببرک کارمل اورموجودہ ادارےکی حکمرانوں کےدرمیان فرق نہ کریں-اسلامی، قومی اورکٹھ پتلیت میں تمام کی حیثیت برابرہے،جیساکہ آپ ان سےبخوبی واقف ہیں-

اوراب چونکہ قابض دشمن شکست سےروبروہے،ایک اہم گزارش ضروری ہے،وہ یہ کہ ہمیشہ دشمن کی فوجی شکست کےبعدافغان قوم کامرانی کی افتخاراس وجہ سےکھوتی ہے،کہ دشمنوں نےاپنی خفیہ سیاسی مداخلت کےذریعےافغانوں کوایک قوی بنیادبنانےاور متحدلیڈر چھننے کےلیے نہیں چھوڑا- روسی شکست کے بعد ایساہی ہوا،کہ اختلاف،ظلم اورجنگ کی آگ ہرافغان کی دہلیزتک پہنچ گیا- آج جب ہماری قوم کی تباہی اور مظلومیت کےاوقات طول پکڑگۓہیں- اس کاسب سےبڑاسبب روسی شکست کےبعدمتحداورمضبوط لیڈرشپ کی عدم موجودگی اوراجنبیوں کےخفیہ سازشیں تھیں-

اب بھی قابض چاہتےہیں کہ اپنی شکست کےمقابلےمیں افغانوں کوایک بارپھرعلاقائی اورنژادی بنیادوں میں تقسیم کرکےباہم دست وگریبان کردیں- جارح اوربعض دیگرملکوں کی وہ کوششیں کسی سےپوشیدہ نہیں ہےجو ہماری ملکی اتحادکےلیےبڑاچیلنج تصورکیاجاتاہے،وہ خفیہ اور اعلانیہ طورپرملکی تقسیم کی کوششوں میں مصروف ہیں،بعض ایجنٹوں کوصرف اس لیےبروۓکار لاۓہیں،کہ عوام میں لسانی اورعلاقائی نفرتوں کوابھاردیں اورافغانستان کومشکل کڑی میں مبتلاکردیں- اس کام کی سدباب کےلیےہرافغان کوہوشیاررہناچاہیۓتاکہ دشمن کی شکست کےبعدحالات کواسلامی بھائی چارےاورمعقول پالیسی پرگامزن کردیں-بعض ایجنٹ طبقہ ہماری خالص اسلامی تحریک کولسان اورعلاقےکی طرف منسوب کرتےہیں،جبکہ بعض بےخبرلوگ غلط فہمی کی وجہ سےاس کاشکارہوجاتےہیں-

لیکن جس طرح ہمارےمقدس دین اسلام نےہمیں ہرقسم کی قوم پرستی اورتعصب سےسختی کےساتھ منع کیاہےتو ہماری صرف ایک ہی رشتہ ہے،وہ ہےاسلام- ہرمسلمان ہمارابھائی اورجان ہےاورہرمسلم ہمارےلیےمانندجان ہے، کیونکہ اسلام نےتمام مسلمانوں کویکجان تصورکیاہے- اسلام کےاعلی پیغمبرحضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کاوہ مبارک حدیث،جسےابوداؤد نےروایت کی ہے،فریایا""وہ ہم میں سےنہیں جوتعصب کی خاطرجنگ کریں""

افغانوں کوچاہیۓکہ اپنی سرزمین کی وحدت اوردین کی سربلندی کےلیےمکاردشمن کی تمام مکروہ عزائم اور پالیسیوں پرنظررکھیں-

ہم ہرافغان کو،خصوصاان بھائیوں کودعوت دیتےہیں جہنوں نےروسی جارحیت کےدوران جہادمیں حصہ لیاتھا،کہ آئيے،اب متحدہوکراتحادواتفاق کوگلےلگادیں،اگرہرموقف میں ہواورجوکچھ کرچکےہو،لیکن پھربھی مؤمن ہو اور بہت تلخ تجربات کامشاہدہ کرچکےہوتوآئیےاس بارصدق دل سےمتحدہوکرمزیدانارشیزم کی سدباب کےلیے ایک خودمختاراورحقیقی اسلامی پالیسی انتخاب کریں-

اگرہم متحدہوئےتوہم نہایت مضبوط قوم ہے- دنیاکی کوئی طاقت ہمارےسامنےنہیں آسکتی ہے اورہم ہرفیصلہ خودہی کرسکتےہیں- تمام تجزیہ کاراورحالات حاضرہ پرنظررکھنےوالےمحقیقین کااس پراتفاق ہےکہ اگر کچھ افغانی پارٹی صلیبی اتحادسےتعاون نہ کرتے،توافغانستان پرکفارمسلط نہیں ہوسکتے- بہرکیف اب یہ بےچارہ عوام قابل رحم ہے- غیرملکی ظالموں کی فوجی،ثقافتی اورمعاشی ہجوم مزیدکسی کےلیےقابل قبول نہیں ہے- ہم ہربااحساس مسلمان بھائی کوتہہ دل سےخوش آمدیدکہتےہیں-

بالعموم عالم اسلام اوربالخصوص عرب ممالک کےشریف مسلمانوں سےاپیل کرتاہوں،کہ عراق اور فلسطین کی مخلص مجاہدین کےساتھ سرومال کےذریعےتعاون کریں اوراسلامی تاریخ کی اس نازک موڑمیں اپنی شرعی ذمہ داری کوکماحقہ نبھالیں،خاص صاحب علم وافکارحضرات پرلازم ہےکہ وہ مجاہدین کی سرپرستی اوررہنمائی کریں-مجھےیقین ہے کہ افغانستان کی مانندوہاں بھی مقدس جہادکی صفوف مضبوط اورمتحدہوجاۓتوعنقریب محکوم قومیں آزادی اوراسلامی نظام سےمستفیدہونگے-

افغانستان کی ہمسایہ اورعلاقائی ممالک اس بات کوبخوبی سمجھ لیں کہ امریکہ کی وسیع اورمتکبرانہ سیاست اورعلاقےمیں ان کی کثرت کسی کی مفادمیں نہیں ہےبلکہ تمام علاقے کےلیے چیلنج اورنقصان دہ ہے،توہمیں مشترکہ طور پرسدباب کرناچائيےاوریہ بھی یادرکھیےکہ امریکہ تم سےاس وقت تک راضی نہیں ہوگی جب تمھاری تمام فوجی،علمی اورمعاشی قوت کوختم نہ کریں،اس بات کواب تجربےنےثابت کردی،مزیددلائل کی ضرورت نہیں ہے-

آخرمیں اپنےمتدین مجاہدین کو،عیدکی مبارکباداوراستقامت کےدعاکےہمراہ ایک بارپھراپنی شرعی ذمہ داری کی رو سےچندضروری توصیےپیسش کرتاہوں-

الف : تمام حرکات وسکنات اورنیتوں کواسلامی شریعت کی دائرےمیں تنظیم کردو-

ب : اپنی عملوں میں احتیاط،تدبیراورہوشیاری کوبروۓکارلائيں-

ج : موثق رپورٹ وشواہدکےبغیرکسی افغان کےخلاف کاروائی مت کرنا-

د : کسی کوسزادینےمیں جلدبازی ،جذبات اوربےپروائی سےکام نہ لینا-

ھ : عوام کےساتھ تعلقات کومضبوط اوربہترسنواردو-

و : عوام کی مال وجان کی مکمل خیال رکھیں-

ز : دشمن کی چالوں سےباخبررہیۓ-

ح : وہ دنیاپرست اوروحشی مسلح گروہ جوقومی تاجروں اورمالداروں سےبندوق کی نوک پررقم بٹورکر اغوا براۓ تاوان کی وارداتوں میں ملوث ہوتےہیں،ان کےمستحکم سدباب کردواوراگران پربالادست ہوۓتوانھیں لازم شرعی سزادو،عوام کی جان ومال کی حفاظت جہادکےاعلی مقاصدمیں سےہیں-

اس کےساتھ 1429ہجری ماہ ذوالجحہ میں عیدکےمبارک ایام میں کابل پلچرخی جیل میں درجنوں مظلوم قیدیوں کی بہیمانہ قتل کی پرزورمذمت کرتاہوں- اس قسم کی بزدلانہ اوروحشی اعمال دشمن کی ضعیف ترین اور گھبراہٹ کی ظاہرنشاندہی ہے- ان مظلوم شہداءکی ایصال ثواب کےلیےدعاگوہوں اوراللہ تعالی کی دربارسے اعلی درجات اورعظیم انعامات کاخواستگار ہوں- مجھےامیدہےکہ یہ معصوم اورمظلوم لہواسلامی نظام کی نفاذ اورظالموں کی بربادی میں کارگرثابت ہوگی- امارت اسلامی کےدلیرمجاہدین ان مظلوم اوردست بستہ اسیر شہداءکی قاتلوں کوشرعی سزادینےمیں آرام نہیں رہیگےبالآخرہ فرعون وقت اپنےکیے اعمال کی سزاکامزہ دنیا اورآخرت میں چھکیں گے- وماذالک علی اللہ بعزیز

مقدس جہادکی مکمل کامیابی اورقابضوں کی مکمل شکست وسوائی کےلیےدست بدعا

والسلام

خادم اسلام امیرالمؤمنین ملامحمدعمرمجاہد